وہ ہر رات سونے سے پہلے زِندگی کا حساب لگاتا تھا۔
کس دن ہنسا، کس دن رویا،
کس نے ساتھ دیا، اور کس نے چھوڑ دیا۔
وقت کے ساتھ اسے احساس ہوا کہ
زِندگی میں سب سے زیادہ نقصان
لوگوں کے بدل جانے سے نہیں ہوتا،
بلکہ اپنی توقعات کے ٹوٹ جانے سے ہوتا ہے۔
وہ سمجھتا تھا کہ خاموشی کمزوری ہے،
مگر زِندگی نے سکھایا کہ
خاموش رہنا بھی ایک طاقت ہے۔
ہر بات کا جواب دینا ضروری نہیں،
اور ہر جنگ جیتنا بھی کامیابی نہیں ہوتی۔
کچھ راستے ہم خود چنتے ہیں،
اور کچھ راستے ہمیں خود چن لیتے ہیں۔
زِندگی انہی راستوں پر ہمیں
ہمارا اصل چہرہ دکھاتی ہے۔
آخر ایک دن اس نے حساب بند کر دیا۔
اس نے سیکھ لیا کہ
زِندگی کو سمجھا نہیں جاتا،
بس جیا جاتا ہے۔
No comments:
Post a Comment